
لندن میں شہد وطن نواب اکبر بگٹی کی تیسری برسی کے سلسلے میں بلوچ ہیومن راٹس کونسل اور ورلڈ سندھی کانگرہس کی جانب سے سیمنار منعقد ہوا۔ سیمنار سے خان اف قلات نے اپنے خطاب میں شہد اکبر بگٹی کی تمام تر جدو جہد کو صر ف بگٹی قلعہ کی حفاظت کا نام دہا خان قلات نے کہا کہ اکبر بگٹی نے بلوچستان کی آزادی کے لئے اپنی جان کا قربانی نہں دیا بلکہ اہنی زاتی انا کے لئے ۔۔۔۔ ان الفاظ کے فورا بعد وہ سیمنار سے چلے گے خان قلات کے اس بیان پر ناظرین نے شدہد غم و غصہ کا اظہار کیا پروگرام کے صدارت کرنے والے معروف بلوچی شاعر اکبربارکزئی نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ خان قلات ہال مہں موجود ہوتا انھوں نے کہا کہ اکبر بگٹی کی تمام تر قربانی بلوچ قوم اور ماردے وطن بلوچستان کے لئے تھی نہ صر ف مہں بلکہ ہر بلوچ خان قلات سے متفیق نہں ہے انھوں نے کہا کہ نواب اکبر بگٹی کی جدوجہد اور ان کی قربانی کو بلوچ قوم کھبی بھی فراموش نہں کرسکتا شہد اکبر بگٹی نے اپنے خون سے بلوچ جدو جہد کو جلا بخشا ہم سب ان کو خراچ عقیدت پیش کرتے ہے۔۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوے فیض بلوچ نے کہا کہ نواب اکبر بگٹی سیمت تمام شہدواں کی انکواہری اقوام متحدہ سے کراہاجا ئے جس ملک کو اپنے عدالتوں پر اعتبار نہں ہو بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کروا رہا ہے تو بلوچ قوم تو اس رہاست کا حصہ ہی نہں تو بلوچ کیونکر ان ان عدالتوں سے رابطہ کرے۔
سیمنارسے عبدالواحد بندہگ،نصیر دشتی،ڈاکٹر علیم بھٹی،بانوک مادیم اور دہگر اپنے خیلات کا اظہار کیا۔ہروگرام کے نظامت معروف بلوچ سیاسی شخصیت عبدلصمدبلوچ نے انجام دہے۔
دریں اثنا۔۔ بلوچ یونٹی کانفرنس کے مرکزی دفترکراچی سے جاری ہونے والے بیان میں خان اف قلات کی جانب سے فخر عوام شہد وطن نواب اکبر خان بگٹی کی قربانی کو غلط رنگ دینے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہد اکبر کی تمام تر قربانی بلوچ وطن اور بلوچ قوم کے لئے تھی شہد اکبر اور شہد بالاچ کی قربانی کی بدولت سے بلوچ قومی آجوئی کی تحرہک اپنے منزل کی جانب رواں دواں ہے۔
3 comments: