بلوچستان کی ایک قوم پرست جماعت بلوچ ریپبلکن پارٹی کی مرکزی رہنما پروفیسر نائلہ قادری بلوچ نے کہا ہے کہ پاکستانی حکام نے انہیں اقوام متحدہ کی جانب سے منعقد ایک عالمی کانفرنس میں شرکت کرنے سے روکا ہے۔
نائلہ قادری بلوچ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے منیلا میں ایک کانفرنس ہو رہی تھی جہاں وہ ایک مقرر کی حیثیت سے مدعو تھیں مگر پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں اور دیگر حکام نے انہیں بیرون ملک سفر کرنے سے روک دیا ہے۔
نائلہ بلوچ کے مطابق مذکورہ کانفرنس میں شرکت کرنے کے لیے وہ اکیس اکتوبر کی رات بارہ بجے کراچی ائرپورٹ پہنچیں تھیں، انہوں نے اپنا بورڈنگ کارڈ بھی حاصل کرلیا مگر امیگریشن کے کاؤنٹر پر خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے ان کے سفری دستاویز اور تقریر کا متن اپنی تحویل میں لے لیا۔نائلہ کے مطابق وہ کراچی ائرپورٹ پر چار گھنٹے ایجنسیوں کی حراست میں رہی ہیں۔
ان سے کہا گیا کہ اگر وہ اسلام آباد سے اپنے معاملات طے کرلیں تو انہیں ایک بار بیرون ملک سفر کرنے کی اجازت دی جائیگی۔ مگر نائلہ کے مطابق انہوں نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ بلوچوں کو اب اسلام آباد سے کوئی معاملات طے نہیں کرنے ہیں۔
نائلہ قادری بلوچ اقوام متحدہ کی جانب سے انیس سو پچانوے میں ہونے والی خواتین کی عالمی بینجگ کانفرنس میں شریک رہی ہیں۔ ’بیجنگ کانفرنس پلس ففٹین‘ کے نام سے حالیہ کانفرنس منیلا میں ہونیوالی ہے جہاں دنیا کے ان آٹھ تنازعات کو ایجنڈے میں شامل کیا گیا ہے جن سے عالمی امن کو خطرات لاحق ہیں۔
پاکستانی میڈیا کو بلوچوں سے الرجی ہے اور وہ بلوچوں کی خبروں کو غائب کر دیتے ہیں
بلوچ عورت
نائلہ بلوچ کے مطابق بلوچستان کا تنازعہ بھی عالمی کانفرنس کے ایجنڈے میں شامل ہے جہاں انہیں اپنی پرزنٹیشن دینی تھی مگر پاکستانی حکام نے انہیں کانفرنس میں شرکت سے روک دیا ہے۔
نائلہ بلوچ کے مطابق انہوں نے زرینہ مری، جلیل رگی، ذاکر مجید، ڈاکٹر دین محمد بلوچ سمیت ان بلوچوں کے کیس تیار کیے تھے جو تاحال پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کی تحویل میں ہیں جن کا برسوں سے کوئی پتہ نہیں اور نہ ان افراد کو کسی عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے۔
نائلہ بلوچ نے اپنی حامی عورتوں کے ہمراہ جمعہ کے روز کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا تھا۔ نائلہ کی ایک حامی بلوچ عورت کا کہنا تھا کہ پاکستانی میڈیا کو بلوچوں سے الرجی ہے اور وہ بلوچوں کی خبروں کو غائب کر دیتے ہیں۔ احتجاجی مظاہروں کی خبریں بھی نشر نہیں کی جا رہی ہیں
0 comments:
Post a Comment