Monday, December 28, 2009

حکومت مخالف مظاہروں کا دوسرا دن پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں کئی گاڑیوں کو نذرِ آتش کیا گیا تہران میں سکیورٹی فورسز اور حکومت مخالفین کے درمیان ہونے والی ان جھڑپوں کا سلسلہ دوسرے دن بھی جاری ہے جن میں آٹھ ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پولیس نے گروہوں کو منتشر کرنے کے لیے شہر کے مختلف حصوں میں پیر کو آنسو گیس پھینکی۔ اتوار کو ہونے والی ہلاکتوں میں حزب مخالف کے رہنما میر حسین موسوی کے بھتیجے بھی شامل ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ پیر کو ان کی تدفین کو احتجاج میں مرکزیت حاصل ہو گی۔ میر موسوی کی ویب سائٹ کے مطابق علی موسوی کو اس وقت پیٹھ پر گولی لگی جب سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر گولی چلائی۔ پیر کو سرکاری انگریزی ٹی وی نے آٹھ ہلاکتوں کی تفصیل دی تھی جب کہ اس سے پہلے سرکاری فارسی ٹی وی پندرہ افراد کے ہلاک ہونے کی خبر دے رہا تھا۔ پولیس ہلاکتوں میں ملوث ہونے کی تردید کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ تین ہلاکتیں حادثات کے نتیجے میں ہوئی جب کہ ایک شخص کو گولی لگی لیکن یہ گولی پولیس نے نہیں چلائی تھی۔ دیگر ہلاکتوں کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی جا رہی۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ اب تک تین سو کے لگ بھگ گرفتاریوں کی اطلاعات ہیں اور گرفتار ہونے والوں میں حزب مخالف کے رہنما ابراہیم یزدی بھی شامل ہیں۔ وہ انقلاب ایران کے بعد 1979 ایران کے وزیر خارجہ رہ چکے ہیں لیکن اب ایران کی فریڈم موومنٹ کے رہنما ہیں۔ امریکہ میں رہائش پذیر ان کے بیٹے خلیل یزدی نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ایسا لگتا ہے کہ ایرانی حکام حزب مخالف کے تمام گروپوں کو ختم کردینا چاہتے ہیں۔ ہلاکتوں کے علاوہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ’یہ انتہائی شرمناک ہے کہ انہوں نے ایک ایسے اٹھہتر سالہ شخص کو بھی گرفتار کر لیا ہے جس نے ساری زندگی ایران میں ایک کھلے معاشرے کے سوا کچھ نہیں چاہا۔ جھڑپوں کے دوران سکیورٹی کے اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں اور ان میں تہران میں پولیس کے سربراہ عزیز اللہ رجزادے بھی شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق تبریز میں مظاہروں کے دوران ہلاکتیں ہوئی ہیں اور اس کے علاوہ اصفہان، نجف آباد اور شیراز میں بھی مظاہرے ہوئے ہیں۔

0 comments:

Post a Comment