Baloch Unity Conference (BUC) is a worldwide movement of Baloch people who campaign for Independent State . Our supporters are outraged by human rights abuses We have more than million Baloch People in All cities in all parts of Balochistan Karachi, Gulf , American and Europe regions and we coordinate this support to act for justice on a wide range of issues. You can help make a real difference by becoming a member or supporter of Baloch Unity Conference BUC
Tuesday, December 15, 2009
اوتھل:چیک پوسٹ قائم مگر تلاشی ختم bbc urdu
یہ چیک پوسٹ آر سی ڈی شاہراہ پر واقع ہے
صوبہ بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ متنازع اوتھل چیک پوسٹ کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا گیا ہے مگر وہاں تعینات کوسٹ گارڈز نے فی الوقت چیکنگ ختم کردی ہے۔
بلوچستان میں اوتھل سمیت متعدد چیک پوسٹیں ختم کرنے کا اعلان وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بلوچستان پیکیج کے حوالے سے اپنی تقریر کے دوران کیا تھا۔
اوتھل چیک پوسٹ کے خاتمے کو نیشنل پارٹی کے سینیٹر حاصل بزنجو نے ایک ٹی وی ٹاک شو میں پیپلزپارٹی حکومت کے لیے ایک چیلینج قرار دیا تھا۔
اوتھل چیک پوسٹ کے حوالے سے اوتھل کے سیاسی اور سماجی رہنما قاضی نورالحق نے بتایا ہے کہ اوتھل چیک پوسٹ بلوچستان کے لوگوں کے لیے ایک عذاب بن گئی تھی۔ قاضی نورالحق کے مطابق انہیں لگتا ہے کہ کوسٹ گارڈز کا عملہ اوپر سفارش کروانے اور چیکنگ بحال کروانے کے چکر میں ہے اور وہ صرف اعلانات سے مطمئن نہیں ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’مقامی لوگ تب مطمئن ہونگے جب کوسٹ گارڈز والے اپنا بوریا بستر اوتھل سے لپیٹ کر واپس چلے جائیں گے‘۔
کوسٹ گارڈز کا عملہ اوپر سفارش کروانے اور چیکنگ بحال کروانے کے چکر میں ہے۔ وہ صرف اعلانات سے مطمئن نہیں ہیں۔مقامی لوگ تب مطمئن ہونگے جب کوسٹ گارڈز والے اپنا بوریا بستر اوتھل سے لپیٹ کر واپس چلے جائیں گے
قاضی نوالحق
پاکستان میں عام طور پر کوسٹ گارڈز ساحلی حدود کی نگرانی کے فرائض سرانجام دیتے ہیں مگر ان کی یہ چیک پوسٹ بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کے ضلعی ہیڈکوارٹر اوتھل سے سات کلومیٹر دور آر سی ڈی شاہراہ پر واقع ہے۔ یہ شاہراہ بلوچستان صوبے کو براستہ لسبیلہ اور خضدار صوبہ سندھ سے ملاتی ہے۔
اوتھل کے مقام پر کوسٹ گارڈز کی چیک پوسٹ عارضی نہیں ہے مگر اس چیک پوسٹ کے عملے اور عمارتوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ ان کے ادارے کے لیے ایک سب ہیڈکوارٹر کا درجہ رکھتی ہے۔چیک پوسٹ پر درجنوں اہلکار پہرہ دیتے ہیں جن میں سے دو چھتوں پر بنائے گئے بنکرز میں بیٹھے ہوتے ہیں۔چیک پوسٹ کے افسر مرکزی دروازے کے اندر قائم دفتری اور رہائشی کالونی میں بیٹھتے ہیں۔
اوتھل چیک پوسٹ پر پہنچتے ہی جب تصاویر لینی شروع کیں تو کوسٹ گارڈز کے عملے نے منع کیا اور مجاز افسر سے اجازت کے لیے کہا۔جب چیک پوسٹ پر موجود مجاز افسر سے بات کرنے کی درخواست کی تو انہوں نے بات کرنے سے گریز کیا۔
یہ چیک پوسٹ دو ملکوں کے درمیاں قائم چیک پوسٹ جیسی دکھائی دیتی ہے جہاں عورتوں کے لیے چھپر نما انتظار گاہ بھی تعمیر کی گئی ہے۔چیک پوسٹ پر تمام قسم کی گاڑیوں کی چیکنگ کا جدید سکیننگ نظام بھی رکھا گیا ہے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے مقامی رہنماء محمد قاسم نے بتایا کہ اگر کوسٹ گارڈز کو مال بردار ٹرک یا مزدا پر شک ہوجائے تو وہ پورے ٹرک سے سامان اترواتے ہیں اور چیکنگ کے بعد دوبارہ ٹرک لوڈ کیا جاتا ہے۔
کوسٹ گارڈز کی چیک پوسٹ اگر کوسٹل ہائی وے پر ہوتی تو اعتراض نہیں تھا مگر کوسٹ گارڈز کے مسلح اہلکار اپنی بندوقوں کے ساتھ چبوتروں پر کھڑے ہیں اور وہ خوف پھیلا رہے ہیں۔بلوچ نوجوان پہلے ہی وفاق سے نفرت کرتے ہیں اور اس قسم کی چیک پوسٹیں ان نفرتوں کو مزید ہوا دے رہی ہیں۔
محمد عظیم، ایچ آر سی پی
اوتھل چیک پوسٹ کے حوالے سے مسلم لیگ ق کے نمائندے اور ایڈووکیٹ عبدالوہاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اوتھل چیک پوسٹ پر گھنٹوں انتظار کے دوران بعض حاملہ خواتین کی موت بھی واقع ہوئی ہے جو بروقت کراچی نہیں پہنچ سکیں۔ ان کے مطابق چیکنگ کے دوران گاڑیوں کی میلوں لمبی قطاریں لگ جاتی تھیں۔انہوں نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ اوتھل چیک پوسٹ مکمل ختم ہوجائے گی اور کچھ وقت کے بعد دوبارہ چیکنگ شروع ہوجائے گی۔
پاکستان پیپلزپارٹی لسبیلہ کے ضلعی صدر محمد یونس رونجو نے کہا ہے کہ اوتھل چیک پوسٹ کے خاتمے سے لوگوں نے سکھ کا سانس لیا ہے اور پیپلزپارٹی حکومت نے وہ کچھ کر دکھایا ہے جو سب کہتے تھے ناممکن ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم ایچ آر سی پی کے ضلعی رابطہ کار محمد عظیم کا کہنا ہے کہ ’ساحل سمندر اوتھل سے بہت دور ہے اور کوسٹ گارڈز کی چیک پوسٹ اگر کوسٹل ہائی وے پر ہوتی تو ان کو اعتراض نہیں تھا مگر کوسٹ گارڈز کے مسلح اہلکار اپنی بندوقوں کے ساتھ چبوتروں پر کھڑے ہیں اور وہ خوف پھیلا رہے ہیں۔بلوچ نوجوان پہلے ہی وفاق سے نفرت کرتے ہیں اور اس قسم کی چیک پوسٹیں ان نفرتوں کو مزید ہوا دے رہی ہیں‘۔
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
0 comments:
Post a Comment